رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

20 ستمبر2011ء


پریس ریلیز


ٹوکیو یونیورسٹی برائے فارن سٹڈیز کے مامِیا کین ساکُونے گزشتہ روز مقتدرہ قومی زبان کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران انھوں نے صدرنشین مقتدرہ قومی زبان ڈاکٹر انوار احمد سے ملاقات کی اور سکالروں سے خطاب کیا۔ پروفیسر مامِیا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں سائنسی اصطلاحات کو جذب کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر زیادہ ترقی کی جا سکتی ہے جس کی مثال جاپان ہے جہاں انگریزی سمجھی جاتی ہے لیکن ذریعہ تعلیم جاپانی زبان ہے ۔ پروفیسر مامیا کین ساکُونے اس بات پر زور دیا کہ جاپانی سے اردو میں زیادہ سے زیادہ تراجم کر کے ہم دونوں ملکوں کی ثقافتوں کو قریب لا سکتے ہیں اورایک دوسرے کے علوم سے فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔
پروفیسر مامِیا کین ساکُو جنھیں اردو کے ساتھ ساتھ سندھی زبان پر بھی عبور حاصل ہے نے بتایاکہ جاپان میں ہر سال تقریباََ ۱۵ جاپانی طالب علم اردو سیکھنے کے لیے داخلہ لیتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ جاپان میں اردو اور ہندی کو برابر حیثیت حاصل ہے۔ مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے پروفیسر مامِیا کین ساکُو کو مقتدرہ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے سکالروں میں میل ملاقات علم کے فروغ اور دونوں ملکوں کی زبانوں کی ترویج کا باعث ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی زبان ہر ملک کی شناخت ہوتی ہے جسے اُس پر فخر ہوتا ہے جیسا کہ جاپان ایک واضح مثال ہے۔جاپانی پروفیسرمامِیا کین ساکُونے مقتدرہ کے کتب خانے کا دورہ بھی کیا۔


(جاوید اخترملک)
مشیر ابلاغ عامہ

 
 
اہم ویب گاہیں افسران صدرنشین کتب خانہ مطبوعات مقتدرہ تنظیمی خاکہ
جملہ حقوق بحق مقتدرہ قومی زبان محفوظ ہیں، ۲۰۱۱ء